کاروار 10؍جولائی (ایس او نیوز) پرائیویٹ اسکولوں میں اپنے بچوں کو تعلیم دلانے میں والدین کی دلچسپی اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ اب بیشتر علاقوں میں سرکاری اسکولوں میں نہ صرف طالب علموں کی تعداد گھٹتی جارہی ہے ، بلکہ امسال تو حد یہ ہوگئی ہے کہ بہت سارے سرکاری کنڑا میڈیم اسکولوں کی اول جماعت میں ایک بھی طالب علم داخلہ نہ لینے کی وجہ سے وہاں تعلیم کا سلسلہ پوری طرح منقطع ہونے اور بالآخر اسکول کو آئندہ بند کردینے کی نوبت آگئی ہے۔
ایک رپورٹ کے مطابق صرف شمالی کینراضلع کے 84سرکاری کنڑا میڈیم اسکولوں کی اول جماعت میں امسال ایک طالب علم نے بھی داخلہ نہیں لیا ہے! ضلع شمالی کینرا میں کل 11تعلقہ جات ہیں جسے دو تعلیمی ضلعوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔کاروار تعلیمی ضلع کے 80اسکولوں میں امسال پہلی جماعت میں کوئی نیا داخلہ نہیں ہوا ہے، جبکہ سرسی تعلیمی ضلع کے 4اسکولوں میں یہی صورتحال سامنے آئی ہے۔
حالانکہ سرکاری اسکولوں کی طرف طلبہ اور والدین کو راغب کرنے کے لئے ریاستی حکومت کی طرف سے کئی سہولتیں فراہم کی جارہی ہیں۔جس میں دوپہر کا کھانا، مفت کتابیں ، یونیفارم، جوتے، اسکالرشپ وغیرہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دینے کی نیت سے ہر طالبہ کو ایک دن اسکول میں حاضری کے بدلے 2روپے کے حساب سے ترغیبی رقم دی جاتی ہے۔ان سب کے باوجود سرکاری اسکولوں کی طرف سے عوام اور طلبہ کی بے رغبتی بڑھتی جارہی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ تدریسی پیشے سے وابستہ ٹرینڈ اسٹاف کے اندر کھلبلی مچ گئی ہے کہ اگر یہی صورتحال رہی تو آئندہ سرکاری اسکولوں میں تقرر اور سرکاری تنخواہ پانے کا ان کا خواب چکنا چور ہوجائے گا، کیونکہ اب سرکاری اسکولوں میں طلبہ کے مقابلے میں اساتذہ کی تعداد بڑھتی جارہی ہے اور انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کیا جارہا ہے۔ اس صورت میں نئے تقررات کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے ہیں۔
سرکاری اسکولوں سے طلبہ اور والدین دور ہونے کے اسباب پر محکمۂ تعلیم کے ایک افسر نے کہا کہ جو لوگ انگریزی زبان اچھی طرح اور مہارت کے ساتھ بول پاتے ہیں انہیں بڑی بڑی نوکریاں آسانی سے مل جاتی ہیں۔ اس کے برعکس انگریزی زبان میں کمزورنوجوانوں کے لئے نوکریاں پانا بڑا مشکل ہوجا تا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ والدین انگریزی میڈیم کے پرائیویٹ اسکولوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔اس کے علاوہ پرائیویٹ اسکولوں کی طرف سے طلبہ کے لئے ٹرانسپورٹ کی سہولت مہیا کی جاتی ہے۔ کچھ اسکولوں میں دوپہر کا کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے۔ ان سہولتوں کی وجہ سے بھی والدین اپنے بچوں کا داخلہ پرائیویٹ اسکولوں میں کررہے ہیں۔